سکردو (مورخہ 4 ستمبر 2026ء) بلتستان یونیورسٹی سکردو میں دفتر ایس اے (اسٹوڈنٹ ایڈوائزر) کے زیرِ اہتمام اور بمناسبت ولادت باسعادت سرکارِ دو عالم حضرت محمد ﷺ سلسلہ ہائے دروس کا تیسرا سیشن منعقد کیا گیا۔”حفاظتِ ماحول اور نبوی ہدایات: حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کا استعمال“ کے عنوان سے منعقدہ تیسرے سیشن میں عالمی شہرت یافتہ مذہبی اسکالر ڈاکٹر معصومہ جعفری نے بطور مہمانِ مقرر خطاب کیا جبکہ سیشن میں اساتذہ اور طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر نے اپنے پیغام میں کہا کہ سیرتِ طیبہﷺ ہمیں فطرت کا احترام، ماحول کی صفائی اور قدرتی وسائل کا مخلصانہ و متوازن استعمال سیکھاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حیاتیاتی تنوع اور درختوں و پانی کا تحفظ دراصل سیرتِ پیغمبر اسلام ﷺ پر عمل پیرا ہونے کا بہترین عملی ذریعہ ہے، لہٰذا میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ماحول کو سرسبز اور متوازن بنانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ اسٹوڈنٹ ایڈوائزر ڈاکٹر محمد ریاض نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سلسلہ وار دروس کا مقصد نوجوانوں میں یہ احساس بیدار کرنا ہے کہ ماحول کی حفاظت صرف ایک شہری ذمہ داری نہیں بلکہ اہم دینی و اخلاقی فریضہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ بھی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں درپیش ماحولیاتی بحران اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کا حل سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں ہی ممکن ہے تاکہ لوگ اسلامی تعلیمات کے ذریعے ماحول سے محبت اور اس کی پاسداری سیکھ سکیں۔ مہمانِ خصوصی عالمی شہرت یافتہ مذہبی اسکالر ڈاکٹر معصومہ جعفری نے اپنے خطاب کے آغاز میں سورۂ رحمن کی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کرتے ہوئے خطہ گلگت بلتستان کی سلامتی، قدرتی وسائل کے تحفظ اور یہاں کے باسیوں کی عاقبت بالخیر کے لیے دعائیہ کلمات کہے۔ انہوں نے بلتستان یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول، خوبصورت عمارت اور نوجوانوں کے علمی جذبے کی تعریف کرتے ہوئے یونیورسٹی اِنتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی تخلیق سے پہلے ہی ان کی تمام ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدرتی ماحول اور کائنات کا توازن قائم کیا اور قرآنِ مجید کی روشنی میں انسان اس زمین پر صرف نفع اُٹھانے والا نہیں بلکہ قدرت کی تمام نعمتوں جیسے پانی، ہوا، درخت اور پہاڑوں کا امین اور خلیفہ ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان نے جب اپنے مفاد اور لالچ کے لیے قدرت کے نظام میں مداخلت کی تو زمین و فضا میں فساد برپا ہوا جس کے نتیجے میں آج فضائی و آبی آلودگی اور گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر میں سیلاب اور فطری وسائل کی کمی جیسے شدید بحران جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قرآن کریم میں تقریباً 750 آیات ایسی ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ نیچر اور قدرتی وسائل کا احاطہ کرتی ہیں جبکہ متعدد سورتوں کے نام بھی حیوانات اور فطرت کے مظاہر پر رکھے گئے ہیں۔ فرمانِ نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودے کی ایک چھوٹی سی شاخ ہو تو اسے چاہیے کہ قیامت سے پہلے اس پودے کو زمین میں لگا دے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماحولیات کا تحفظ صرف ایک سائنسی ضرورت نہیں بلکہ ہر مسلمان کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے اور تمام طلبہ و اساتذہ اپنے خطے کی قدرتی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔سیشن کے آغاز میں تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت شعبہ باٹنی کے طالب علم حافظ نوازش علی نے حاصل کی جبکہ نعتِ رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کا شرف شعبہ اُردو کی طالبہ قرۃ العین کو حاصل ہوا۔